فیض احمد فیض
فیض احمد فیض جن کا (اصل نام چوہدری فیض احمد) تھا، آپ 13 فروری 1911 سن عیسوی کو بستی کالا قادر (فیض نگر) سیالکوٹ (موجودہ ضلع ناروال) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام بیرسٹر محمد سلطان خان ایک علم دوست شخصیت تھے جو امارات افغانستان کے امیر عبدالرحمان کے دور میں چیف سیکریٹری بھی رہ چکے تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ سے حاصل کی، جہاں آپ کو مولوی ابراہیم سیالکوٹی کے مکتب میں حفظ قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ قرأت اور تفسیرِ قرآن سیکھنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ خیر سے آپ کی پنجابی تو مادری زبانی تھی ہی، لیکن مدرسے کے علمی ماحول کی وجہ سے آپ فارسی اور عربی زبانوں میں بھی مشاق ہو گئے۔ 1921 میں آپ اسکاچ مشن اسکول سیالکوٹ میں داخل ہوئے۔ آپ نے میٹرک کا امتحان اسکاچ مشن اسکول سیالکوٹ اور پھر ایف اے کا امتحان مرے کالج سیالکوٹ سے پاس کیا۔ آپ کے اساتذہ میں میر مولوی شمس الحق تھے، جو علامہ اقبال کے بھی استاد رہ چکے تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کے بعد پوسٹ گریجویشن مکمل کی جس کے بعد اورینٹل کالج سے عربی زبان میں بھی ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔
فیض صاحب کو دمہ کا مرض لاحق تھا، آپ بہت زیادہ سگریٹ نوشی بھی کرتے تھے، دمے کی بیماری اور سگریٹ نوشی کی عادت نے ان کی صحت پر کافی بُرا اثر ڈالا جس کی وجہ سے عمر کے آخری دور میں آپ کافی کمزور ہو گئے تھے۔ 1984 کے موسم گرما میں یورپ کے سفر سے واپسی کے بعد آپ کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوئی، آپ کچھ عرصہ میو ہسپتال لاہور میں زیر علاج رہے۔ بالآخر 18 نومبر 1984 کی شب آپ اس جہاں فانی کو الوداع کہہ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے، ان کی تدفین ماڈن ٹاؤن لاہور کے قبرستان میں کی گئی۔
شاعری
فیض صاحب نے سکول کے زمانے سے ہی شاعری شروع کر دی تھی، لیکن گورنمنٹ کالج لاہور میں دورانِ تعلیم ہی آپ کی شاعری کی باقاعدہ اشاعت شروع ہوئی تھی، جہاں ان کی پہلی نظم معصوم کالج میگزین میں 1929 میں شائع ہوئی۔ فیض احمد فیض انگریزی، اردو اور پنجابی کے ساتھ ساتھ فارسی اورعربی پر بھی عبور رکھتے تھے۔ انہوں نے ان زبانوں کی کلاسیکی شاعری سے براہ راست استفادہ کیا اور اردو کی کلاسیکی شاعری پر بھی ان کی گہری نگاہ تھی۔ فیض کی شروع کی شاعری بطور رومانی شاعر کے طور پر تھیا۔ پھر ان کے ہاں ترقی پسند شاعری کے موضوعات آ گئے مگر اِن موضوعات کو بھی فیض نے بالعموم جمالیاتی اور فنی حسن کے ساتھ الفاظ کا پیرایہ دیا ہے۔ ان کی شاعری سماج کے سرمایہ دار، جاگیردار اور بالا دست طبقے کے خلاف تنقید کا اعلان تھی جو کہ ساری دنیا میں مزدوروں اور ہاریوں اور دیگر پسے ہوئےمحنت کش طبقے کا اِستحصال کر رہے تھے، یہی وجہ ہے کہ بہت جلد ہی فیض صاحب کو ترقی پسند تحریک کے اہم ترین سرخیل شاعر کے طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ اردو شاعری کا ایک بڑا طبقہ فیض صاحب کو غالب اور اقبال کے بعد اردو کے سب سے بڑا شاعر گردانتا ہے۔
فیض1959 میں پاکستان آرٹس کونسل میں سیکریٹری تعینات ہوئے جہاں آپ 1962 تک تعینات رہے۔ آپ ادبی رسالہ ادب لطیف کے مدیراوراس کے بعد روزنامہ پاکستان ٹائمز، روزنامہ امروز اور ہفت روزہ لیل ونہار کے مدیر اعلٰی بھی رہے۔ فیض احمد فیض وہ واحد ایشیائی شاعر تھے جنہیں 1963 میں فیض کو لینن پیس ایوارڈ سے نوازا گیا۔
ایوارڈز
لینن پیس ایوارڈ 1962*
ادب کا لوٹس ایوارڈ 1976*
نشانِ امتیاز 1990*
نگار ایوارڈز*
سال 1984 میں ان کو قبل از مرگ نوبل انعام کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا*
ذاتی زندگی
فیض احمد فیض کی شادی 28 اکتوبر 1941 کو سری نگر کے تاریخی پری محل میں برطانوی خاتون ایلس کیتھرین جارج سے ہوئی، جو کہ کمیونسٹ پارٹی کی سرگرم کارکن تھیں۔ ایلس جارج عام طور پر ایلس فیض کے نام سے ہی یاد کی جاتی رہی ہیں۔ ایلس جارج/ایلس فیض اور فیض صاحب کی یہ شادی اسلامی عقائد کے مطابق ہوئی، ان کا اسلامی نام کلثوم رکھا گیا۔ نکاح شیخ محمد عبداللہ نے پڑھایا جو بعد میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ بھی بنے۔ نکاح نامے پر دستخط کرنے والوں میں غلام محمد صادق اور بخشی غلام محمد بھی شامل تھے۔ نکاح خوانی کی تقریب میں شیخ محمد عبداللہ، ڈاکٹر نور حسین، کے ایچ خورشید اور ایلس جارج/ایلس فیض کے بہنوئی ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر بھی شریک تھے۔ ایلس فیض کی بڑی ہمشیرہ کرسٹوبل کی شادی ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر کے ساتھ شادی ہوئی تھی، جن کا اسلامی نام بلقیس رکھا گیا تھا۔
آپ کا کلام محمد رفیع، ملکہ ترنم نور جہاں، مہدی حسن، نصرت فتح علیخاں، آشا بھوسلے اور جگجیت سنگھ سمیت مختلف ادوار کے تمام بہترین گلوکاروں کی آوازوں کی زینت بنا۔
فیض صاحب کی تصنیفات؛
نقش فریادی*
دست صبا*
زنداں نامہ*
دست تہ سنگ*
سر وادی سینا*
شام شہر یاراں*
مرے دل مرے مسافر*
نسخہ ہائے وفا (کلیات)*
نمونۂ کلام؛
چند روز اور میری جان! فقط چند ہی روز
ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہم
اور کچھ دیر ستم سہہ لیں تڑپ لیں رو لیں
اپنے اجداد کی میراث ہے معذور ہیں ہم
**********
ہم محنت کش جگ والوں سے جب اپنا حصہ مانگیں گے
اک کھیت نہیں، اک دیس نہیں، ہم ساری دنیا مانگیں گے
یاں ساگر ساگر موتی ہیں یاں پربت پربت ہیرے ہیں
یہ سارا مال ہمارا ہے،۔ ہم سارا خزانہ مانگیں گے
جو خون بہا جو باغ اُجڑے جو گیت دلوں میں قتل ہوئے
ہر قطرے کا ہر غنچے کا، ہر گیت کا بدلہ مانگیں گے
**********
مر جائیں گے ظالم کی حمایت نہ کریں گے
احرار کبھی ترکِ روایت نہ کریں گے
کیا کچھ نہ مِلا ہے جو کبھی تجھ سے مِلے گا
اب تیرے نہ مِلنے کی شکایت نہ کریں گے
**********
دربارِ وطن میں جب اک دن سب جانے والے جائیں گے
کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے، کچھ اپنی جزا لے جائیں گے
اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
جب تخت گرائے جائیں گے، جب تاج اچھالے جائیں گے
**********
کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں، کب ہات میں تیرا ہات نہیں
صد شُکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں
مشکل ہے اگر حالات وہاں، دل بیچ آئیں، جاں دے آئیں
دل والو! کوچۂ جاناں میں، کیا ایسے بھی حالات نہیں
**********
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تُو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
**********
No comments:
Post a Comment