Monday, 5 June 2023

وہی ذکر شہر حبیب ہے وہی رہ گزار خیال ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


وہی ذکرِ شہرِ حبیبﷺ ہے، وہی رہ گُزارِ خیال ہے

یہ وہ ساعتیں ہیں کہ جن میں خود کو سمیٹنا محال ہے

یہی اسمؐ ہے بجُز اس کے کوئی بھی حافظے میں نہیں مرے

یہی اسمﷺ میری نجات ہے، یہی اسمؐ میرا کمال ہے

یہی دن تھے جب کوئی روشنی مِرے دل پہ اُتری تھی اور اب

وہی دن ہیں اور وہی وقت ہے، وہی ماہ ہے، وہی سال ہے

یہاں فاصلوں میں ہیں قُربتیں، یہاں قُربتوں میں ہیں شدتیں

کوئی دُور رہ کے اویس ؓ  ہے، کوئی پاس رہ کے بلالؓ ہے

تِرا انؐ کے بعد بھی ہے کوئی، مِرا انؐ کے بعد کوئی نہیں

تجھے اپنے حال کی فکر ہے، مِری عاقبت کا سوال ہے

وہؐ ابھی بلائیں کہ بعد میں، مجھے محو رہنا ہے یاد میں

میں صدائے عشقِ رسولؐ ہوں، مِرا رابطہ تو بحال ہے


سلیم کوثر 

No comments:

Post a Comment