نظامِ فکر نے بدلا ہی تھا سوال کا رنگ
جھلک اٹھا کئی چہروں سے انفعال کا رنگ
نہ گل کدوں کو میسر، نہ چاند تاروں کو
تِرے وصال کی خوشبو، تِرے جمال کا رنگ
ذرا سی دیر کو چہرے دمک تو جاتے ہیں
اسیرِ وقت ہے تُو، میں ہوں وقت سے آزاد
تِرے عروج سے اچھا مِرے زوال کا رنگ
بسانِ تختۂ گل میری فکر ہے آزاد
مثالِ قوسِ قزح ہے مِرے خیال کا رنگ
اعجاز صدیقی
No comments:
Post a Comment