تیری خاطر جنت کو ٹھکرایا تھا
میں ہوں جس نے پہلا عشق کمایا تھا
سب نوری تھے ایک بدن کا سایا تھا
تُو نے اس سائے سے پیڑ اگایا تھا
جنت میں بھی تیری باتیں ہوتی تھیں
اور میں اک دن تجھ کو دیکھنے آیا تھا
مجھ سے پہلے چاند کی پوجا ہوتی تھی
میں ہوں جس نے چاند کو ہاتھ لگایا تھا
میں ہوں جس نے پہلی جنگ کو جیتا تھا
تُو ہے جس نے پہلا تیر چلایا تھا
سب عشاق پہ لازم ہے تعظیم مِری
میں نے عشق میں پہلا دھوکا کھایا تھا
احمد عطاءاللہ
No comments:
Post a Comment