Friday, 21 January 2022

ایسے مجمع ہے رقیبوں کا مرے یار کے گرد

 ایسے مجمع ہے رقیبوں کا مِرے یار کے گرد

جیسے مزدور اکٹھے ہوں کسی کار کے گرد

ان میں بس ایک ہی منت تھی بنا حرص و ہوس

ورنہ دھاگے تو بہت لٹکے تھے دربار کے گرد

ہم کہ دشمن کو ڈرانے کا ہنر جانتے ہیں

خون اپنا ہی لگا لیتے ہیں تلوار کے گرد

لوگ سمجھے کہ بڑی جاں ہے اداکاری میں

اور وہ آگ حقیقت تھی اداکار کے گرد

ایسا منظر کہ فرشتے بھی اتر کر دیکھیں

یار چاروں ہی اگر بیٹھے ہوں سرکار کے گرد

غار جس غار میں آقا پہ وحی اتری تھی

آیتیں اب بھی مہکتی ہے اُسی غار کے گرد 


احمد آشنا 

No comments:

Post a Comment