عشق دریا ہے آگ پانی ہے
اور سُلگتی ہوئی جوانی ہے
دو ہی دن بھولنے میں لگتے ہیں
دو ہی دن کی تو تُو کہانی ہے
آپ کے پیر پڑ گئے ہوں گے
رقص کرتا ہوا جو پانی ہے
میں نے مرنے کو ہی اساں جانا
جیے جانے میں کیا اسانی ہے؟
تُو نہیں ہے مگر ہاں میرے پاس
تیرے فوٹو کی اک نشانی ہے
میکدہ ہے شراب ہے میں ہوں
اور لٹتی ہوئی جوانی ہے
تُو نہیں ہے تو چار سُو میرے
خوف کھاتی یہ زندگانی ہے
تم محبت جسے سمجھتے ہو
پچھلے وقتوں کی راجدھانی ہے
راشد خان عاشر
No comments:
Post a Comment