Friday, 6 August 2021

اور تو کچھ نہیں کیا ہو گا

 اور تو کچھ نہیں کیا ہو گا

میں نے پھر موت کو جیا ہو گا

اس کے ساگر سے لب لگائے تھے

اس نے اک گھونٹ تو پیا ہو گا

آج بلبل نے اس چنبیلی سے

جانے کیا کان میں کہا ہو گا

ایک باقی چراغ تھا اچھا

اس کو تم نے بجھا دیا ہو گا

کچھ دنوں قبل تک نیا تھا میں

اب جو ہے آج کل نیا ہو گا


فیصل فہمی

No comments:

Post a Comment