Wednesday, 4 August 2021

کیوں آسمان ہجر کے تارے چلے گئے

 کیوں آسمان ہجر کے تارے چلے گئے

اب کیا ہوا جو خواب تمہارے چلے گئے

ساقی کے در پہ آج بغاوت کے شور میں

ہم جام جام جام پکارے چلے گئے

روٹھا ہوا ہے چاند بہت آفتاب سے

اور چاندنی کو ڈھونڈنے تارے چلے گئے

اس دست اختیار میں اک جان ہی تو تھی

ہم تم پہ اپنی جان کو وارے چلے گئے

بے مہر زندگی کا گزارا نہ ہو سکا

ہم بار بار عشق میں ہارے چلے گئے


فیصل فہمی

No comments:

Post a Comment