شاید کہ یہی میری ریاضت کا صلہ ہے
کافی ہے کہ پردہ تِری سوچوں کا ہلا ہے
منسوب ہوا مجھ سے کسی دل کا صحیفہ
بیتے ہوئے لمحوں سے کوئی ساز ملا ہے
اک چہرے پہ معصوم سی حیرت کا ہے موسم
یا شاخِ محبت پہ کوئی پھول کھلا ہے
ہر سمت ہے کھلتے ہوئے چہروں کا تبسم
نقاشِ ازل تجھ سے نہ اب کوئی گلہ ہے
امید ہے اب چاک مِرے دل کے سلیں گے
اب زخم، محبت میں کوئی خاص ملا ہے
چلنا ہے سنبھل کر مجھے کانٹوں کی زمیں پر
اب دشمنِ جاں مجھ کو عقیدت سے ملا ہے
رکھیں گے مراد اس پہ تِری یاد کے مرہم
جو زخم جدائی میں تِری ہم کو ملا ہے
شفیق مراد
No comments:
Post a Comment