Wednesday, 6 January 2021

کوئی دیوار سلامت ہے نہ اب چھت میری

 کوئی دیوار سلامت ہے نہ اب چھت میری 

خانۂ خستہ کی صورت ہوئی حالت میری 

میرے سجدوں سے منور ہے تِری راہگزر 

میری پیشانی پہ روشن ہے صداقت میری

اور کچھ دیر یوں ہی مجھ کو تڑپنے دیتے

آپ نے چھین لی کیوں ہجر کی لذت میری

یہ الگ بات کہ میں فاتح اعظم ٹھہرا

ورنہ ہوتی رہی ہر گام ہزیمت میری

میں نے ہر لمحہ نئی جست لگائی اسلم

مجھ سے وابستہ رہی پھر بھی روایت میری


اسلم آزاد

No comments:

Post a Comment