ضبط کی انتہا ہے آج کی شام
اک قیامت بپا ہے آج کی شام
آج کی رات کیسے گزرے گی
کیا سے کیا ہو گیا ہے آج کی شام
روح کو جسم کو قرار نہیں
جام خالی پڑا ہے آج کی شام
ہاتھ پھر کیوں اٹھے دعا کے لیے
جانے کیا التجا ہے آج کی شام
عمر بھر ساتھ تھا شفیق مراد
وہ کہاں کھو گیا ہے آج کی شام
شفیق مراد
No comments:
Post a Comment