Thursday, 25 March 2021

حق بات کرنے والے سر دار آ گئے

حق بات کرنے والے سرِ دار آ گئے

راہِ خدا میں صاحبِ ایثار آ گئے

جو خوش تھے زیرِ سایۂ دیوار آ گئے

بیزار ہم تھے ، زیست سے بیزار آ گئے

اس آس میں کہ آئے گا رحمت کو اس کی جوش

ظلمت میں روشنی کے طلبگار آ گئے

بازارِ سیم و زر ہے کہ بازارِ حسن ہے

پل بھر میں دیکھو کتنے خریدار آ گئے

یہ نفرتوں کی آندھی اکھاڑے گی شہر کو

ہر موڑ پہ چھپے ہوئے عیّار آ گئے

نکلا زباں سے لفظ جو موتی سے کم نہ تھا

سچ جُرم ہے تو مرنے کو تیار آ گئے

دستک ہی دیں کہ کھولنے کوئی تو آئے گا

مدت سے ہم قریبِ درِ یار آ گئے

ساحر وہ ہوں گے بزمِ سخن میں غزل سرا

لو شام سے ہی تشنۂ دیدار آ گئے


ساحر شیوی

No comments:

Post a Comment