Friday, 16 April 2021

ہر طرف شہر میں نادیدہ فسوں ہے یوں ہے

 ہر طرف شہر میں نادیدہ فسوں ہے یوں ہے

صاحبِ دار کو مطلوب جنوں ہے یوں ہے

شہرِ جاں سے ہوا آمادۂ ہجرت غم بھی

ساتھ اشکوں کے رواں آنکھ سے خوں ہے یوں ہے

آنکھ کو اُس کی، کسی اور شناسائی کی ضد

دل مگر مجھ کو یہ سمجھائے کے یوں ہے یوں ہے

قریۂ کن میں بھی ہے صاحبِ کن کا ہی جمال

زندگی خود بھی نثارِ فیکوں ہے یوں ہے

زخم اک اور ملا تیری مسیحائی سے

آج آشفتہ مزاجوں کو سکوں ہے یوں ہے

جانے کب دل کو محبت کا یقیں آجائے

ارتعاشِ رگِ جاں اور فزوں ہے یوں ہے

خستہ حالوں پہ نئے غم کے ہیں سائے خیام

زندگی اور زبوں اور زبوں ہے یوں ہے​


خیام قادری

No comments:

Post a Comment