Wednesday, 5 April 2023

سر پہ سورج ہو مگر سایہ نہ ہو ایسا نہ تھا

 سر پہ سورج ہو مگر سایہ نہ ہو ایسا نہ تھا 

پہلے بھی تنہا تھا لیکن اس قدر تنہا نہ تھا 

وہ تو یہ کہیے غم دوراں نے رکھ لی آبرو 

ورنہ دل کی بات تھی کچھ کھیل بچوں کا نہ تھا 

بچ کے طوفاں سے نکل آیا تو حیرانی ہے کیوں 

گو سفینہ ڈوبتا تھا حوصلہ ٹوٹا نہ تھا 

آپ آئے تو یقیں کرنا پڑا ورنہ یہاں 

رات کو سورج کبھی افلاک پر نکلا نہ تھا 

شہر دلی آئینہ خانہ ہے لیکن اے عطا

جال تو خوش فہمیوں کا آپ کو بننا نہ تھا


عطا عابدی

No comments:

Post a Comment