تمہارے نام کر بیٹھے دل و جاں کی خوشی صاحب
حسین و دل نشیں لگتی ہے اب تو زندگی صاحب
ملن کی ساعتوں میں جاں فزا خوشبو انوکھی ہے
ہمہ دم رقص کرتی ہے عجب اک بے خودی صاحب
ترو تازہ ہوئی مٹی مِری بس ایک لمحے میں
تمہارے ایک حرف خوشنما پر وار دوں غزلیں
ستارے گیت گاتے ہیں سمندر رقص کرتا ہے
مکمل ہو گئے ہم تم نہیں کوئی کمی صاحب
یہی سچ ہے کہ ہم تم مختلف ہیں اور لوگوں سے
زمانے میں مثالی ہے ہماری ہمرہی صاحب
کہ جب بھی ہاتھ میرے بارگاہ رب میں اٹھتے ہیں
تشکر لب پہ ہوتا ہے نگاہوں میں نمی صاحب
شمائلہ بہزاد
No comments:
Post a Comment