Thursday, 6 April 2023

تیرے آنے سے ہی گلرنگ ہوئی ہے یہ زمیں

 تیرے آنے سے ہی گُلرنگ ہوئی ہے یہ زمیں

ایسا لگتا ہے کہ میں ہوں ترے ہونے سے یہیں

تِتلیاں رنگ چُراتی ہیں بتاتی ہیں مجھے

تیرے ہونے کا گُماں اور ترے ہونے کا یقیں

میں جنہیں چھوڑ کے آیا تھا تمہاری خاطر

جانے کس حال میں رہتے ہیں اسی گھر کے مکیں

بےوجہ خواب بُنیں کس لیے آنکھیں میچیں

جس نے آنا ہو وہ آ جائے گا اک روز یہیں

سمتِ افلاک اڑی جاتی ہے کوئی خواہش

دیکھنا لوٹ نہ آئے وہ مرے پاس کہیں

میں وہ رفتارِ جنوں خیز جو ہنستا جاؤں

 تیری وسعت کو خبر کیا مِرے اے دشتِ حزیں

فتح کرنا ہے ہمیں عشق کا میدان، سو ہم

ساتھ لے جائیں گے وہ لوگ جو گھبرائیں نہیں

سر بہ سجدہ تِرے ہونے کی گواہی دیں گے

جتنے اِترائے ہوئے لوگ ہیں اے ماہ جبیں


زاہد خان

No comments:

Post a Comment