Thursday, 6 April 2023

اے ستارہ نسب تری آنکھیں

 اے ستارہ نسب تِری آنکھیں

اے مسیحائے شب تری آنکھیں

جیسے شوال ہو تِرا ماتھا

جیسے ماہِ رجب تری آنکھیں

جیسے تلوار ہوں بھنویں تیری

روح عین العرب تری آنکھیں

بے بصارت بھی سننے لگتے ہیں

بات کرتی ہیں جب تری آنکھیں

حسن عالم کی کیا کروں تعریف

سب تِرے ہونٹ سب تری آنکھیں

میرے منظر ہیں اب تِرے منظر

میری آ نکھیں ہیں اب تری آنکھیں

غیر ممکن ہے ملتی جلتی مثال

اس قدر ہیں عجب تری آنکھیں

چلتا پھرتا ہے مے کدہ اکرام

تیری آنکھیں ہیں کب تری آنکھیں


اکرام عارفی

No comments:

Post a Comment