Saturday, 22 May 2021

لہو میں ڈوب کے تلوار میرے گھر پہنچی

 لہو میں ڈوب کے تلوار میرے گھر پہنچی

وہ سر بلند ہوں دستار میرے گھر پہنچی

پہاڑ کھودا تو جز پتھروں کے کچھ نہ ملا

مِرے پسینے کی مہکار میرے گھر پہنچی

شجر نے تند ہواؤں سے دوستی کر لی

شکستہ پتوں کی بوچھار میرے گھر پہنچی 

مِرے مکان سے کرنوں کی ڈار ایسی اڑی

ہر اک بلائے پرسرار میرے گھر پہنچی

مِرے پڑوس میں ٹوٹے ظروف شیشوں کے

چہار سمت سے جھنکار میرے گھر پہنچی

پتنگ ٹوٹ کے آنگن کے پیڑ میں الجھی

شریر بچوں کی یلغار میرے گھر پہنچی 


سبط علی صبا

No comments:

Post a Comment