جا بجا ملنے لگے حیوان تیرے شہر میں
ڈھونڈ کر بھی نہ ملے انسان تیرے شہر میں
دشت صحرا کی طرح لگتے ہیں اب یہ گلستان
جب سے خالی ہو گئے گلدان تیرے شہر میں
بستیوں سے جنگلوں کی اور ہے ہجرت ہوئی
کیسے کیسے گھر ہوئے ویران تیرے شہر میں
کیا کہیں کب وہ کوئی تازہ حکم صادر کریں
نت نئے دیکھے گئے فرمان تیرے شہر میں
ان کو اپنے درد سے ہم آشنا کرتے مگر
لوگ نہ ہوتے اگر انجان تیرے شہر میں
روبینہ میر
No comments:
Post a Comment