Saturday, 22 May 2021

جابجا ملنے لگے حیوان تیرے شہر میں

 جا بجا ملنے لگے حیوان  تیرے شہر میں

ڈھونڈ کر بھی نہ ملے انسان تیرے شہر میں

دشت صحرا کی طرح لگتے ہیں اب یہ گلستان

جب سے خالی ہو گئے گلدان تیرے شہر میں

بستیوں سے جنگلوں کی اور ہے ہجرت ہوئی

کیسے کیسے گھر ہوئے ویران تیرے شہر میں

کیا کہیں کب وہ کوئی تازہ حکم صادر کریں

نت نئے دیکھے گئے فرمان تیرے شہر میں

ان کو اپنے درد سے ہم آشنا کرتے مگر

لوگ نہ ہوتے اگر انجان تیرے شہر میں


روبینہ میر

No comments:

Post a Comment