کرونائی غزل
رسم مصافحہ ہو گئی رخصت سماج سے
آگاہی ہو گی اب نئے رسم و رواج سے
صدیوں کے بعد بھی یہ مقولہ درست ہے
پرہیز اب بھی اچھا ہے بے شک علاج سے
یہ بے رخی، فریبِ نظر اور سنگ دلی
سیکھا یہ سب کرونا نے تیرے مزاج سے
بے عزتی غریب کی ہے دس کلو کا بیگ
آنے لگی ہے خون کی بُو اب اناج سے
صفدر ہاں اقتدار سے نفرت ہے آج بھی
نفرت تھی پہلے بھی مجھے ہر تخت و تاج سے
صفدر ہمدانی
No comments:
Post a Comment