وہ اک وجود جو مٹی میں ملا جاتا ہے
آ کے صحرا میں کئی پھول کھلا جاتا ہے
جس نے پالا ہو سبھی کو مسیحا بن کر
بن کے نادار وہ دنیا سے چلا جاتا ہے
چھپ جائے جو تاریکی میں امید سحر
شکست کی آ کے وہ بنیاد ہلا جاتا ہے
حاکم کی اطاعت میں جو توبہ بھی کریں
وہ بغاوت کا نیا جام پلا جاتا ہے
عمر لگ جاتی ہے احساس ذمہ داری میں
تجھ کو کھونے کا یہ احساس رُلا جاتا ہے
الجھ جاؤں جو درباروں کے شاہدولوں سے
من میں تہذیب کا اک دیپ جلا جاتا ہے
موت کیا مارے گی افکار کی سچائی کو
وہ ایک فکر تھا ذہنوں میں ڈھلا جاتا ہے
ہارون اشفاق
No comments:
Post a Comment