مٹ رہا ہے نشاں کیوں نہیں بولتے
جا رہی ہے یہ جاں کیوں نہیں بولتے
مٹ رہا ہے نشاں کیوں نہیں بولتے
رہبرِ کارواں، کیوں نہیں بولتے
جل گئیں بستیاں، آگ بجھ بھی گئی
اٹھ رہا دھواں، کیوں نہیں بولتے
کچھ تو پوچھو ذرا رہبروں سے کبھی
لُٹ گیا کارواں، کیوں نہیں بولتے
میرے لوگوں کے چہرے فسردہ ہیں کیوں
کیوں ہے آہ و فغاں، کیوں نہیں بولتے
دشمنوں سا رویہ میرے ساتھ بھی
دوستوں کی زباں، کیوں نہیں بولتے
تم کو معلوم کیسے ہو دل کی خلش
جن کا مایا ہو جاں کیوں نہیں بولتے
ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮨﻮﺍ ﻇﻠﻤﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﯾﮩﺎﮞ
ﻣﭧ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﻧﺸﺎﮞ، ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻟﺘﮯ
کیوں نہیں بولتے اپنے حق کے لیے
کیوں یہ چپ ہے زباں، کیوں نہیں بولتے
فرزانہ ناز
No comments:
Post a Comment