کار خانے خوں سے بھڑکائے گئے ہیں
نوالے مزدور کے کتوں کو کھلائے گئے ہیں
راج محل، یہ بیرک، یہ ایوانوں میں دیوان
غریب کی چھت چھین کر بنائے گئے ہیں
چوراہوں میں مانگا حق آزادی جنہوں نے
قائد وہ سبھی گھروں سے اٹھائے گئے ہیں
سچ بات لکھے کون اس جھوٹ نگر میں
صحافی بھی سالار سے دھمکائے گئے ہیں
زندان و سُولی سے جو نہ ڈریں وہ
اولاد کی سانسوں سے ڈرائے گئے ہیں
شعور ہی بچا لائے گا ان بہتے ہوؤں کو
جھوٹ کے سیلاب میں جو بہائے گئے ہیں
بن جائیں گے اک روز یہی بنیادِ بغاوت
یہاں ظلم جو انسانوں پہ ڈھائے گئے ہیں
کل مانگیں گے سارے یہ جیون کا ہر حق
آج کچرے کی روٹی پہ جو بہلائے گئے ہیں
ہارون اشفاق
No comments:
Post a Comment