Monday, 7 June 2021

اب اہل دل ہیں کہ نایاب ہوتے جاتے ہیں

 اب اہلِ دل ہیں کہ نایاب ہوتے جاتے ہیں 

غبارِ خاطرِ احباب ہوتے جاتے ہیں 

تمہارے آنے سے کچھ اضطراب کم ہوتا 

یہ کیا کہ اور بھی بےتاب ہوتے جاتے ہیں 

سکوں مآب سمجھتے تھے جن کناروں کو 

سمٹ کے حلقۂ گرداب ہوتے جاتے ہیں

ہمیں بھی رات کو دن کہنا آتا جاتا ہے

کہ ہم بھی حاملِ آداب ہوتے جاتے ہیں

ہمیں ملے نہ ملے زندگی، مگر نکہت

سنا ہے زیست کے اسباب ہوتے جاتے ہیں


نکہت بریلوی

No comments:

Post a Comment