Monday, 7 June 2021

آنکھوں سے کسی خواب کو باہر نہیں دیکھا

 آنکھوں سے کسی خواب کو باہر نہیں دیکھا

پھر عشق نے ایسا کوئی منظر نہیں دیکھا

یہ شہر صداقت ہے قدم سوچ کے رکھنا

شانے پہ کسی کے بھی یہاں سر نہیں دیکھا

ہم عمر بسر کرتے رہے میر کی مانند

کھڑکی کو کبھی کھول کے باہر نہیں دیکھا

وہ عشق کو کس طرح سمجھ پائے گا جس نے

صحرا سے گلے ملتے سمندر نہیں دیکھا

ہم اپنی غزل کو ہی سجاتے رہے راحت

آئینہ کبھی ہم نے سنور کر نہیں دیکھا


حمیرا راحت

No comments:

Post a Comment