دن مِرا خوف میں گزرتا ہے
رات اک طوق میں گزرتی ہے
ساری دنیا سے دُور چُپ چُپ سا
گہری سوچوں میں پڑا رہتا ہوں
پہلے میدان مارتا تھا میں
اب میں کونوں میں پڑا رہتا ہوں
میری روداد تو سنے کوئی
میری فریاد تو سنے کوئی
لوگ کہتے ہیں محبت جس کو
اتنی ظالم ہے مجھ درندے کو
ایک تھپکی سے مار ڈالا ہے
عمران شمشاد
No comments:
Post a Comment