میرے ہوتے تم پریشاں ہو مِرا کیا فائدہ
پُر خطر رستوں میں بے جاں ہو مرا کیا فائدہ
اب تو چاروں اور سے آنے لگی ہے یہ صدا
عاشقوں کے واسطے جاں ہو مرا کیا فائدہ
زندگی میں نے یہ اپنی تم پہ کر دی ہے نثار
تم کسی کا جزوِ ایماں ہو مرا کیا فائدہ
میری ہمت ٹوٹتی ہے صبر کے بازار میں
تم اگرچہ خوب انساں ہو مرا کیا فاٸدہ
وصل بھی لگتا ہے مجھ کو ہجر جیسا جانِ شوق
میرے گھر میں تم جو مہماں ہو مرا کیا فاٸدہ
مدیحہ شوق
No comments:
Post a Comment