Monday, 7 June 2021

ہر ایک رات کو مہتاب دیکھنے کے لیے

 ہر ایک رات کو مہتاب دیکھنے کے لیے

میں جاگتا ہوں تِرا خواب دیکھنے کے لیے

نہ جانے شہر میں کس کس سے جھوٹ بولوں گا

میں گھر کے پھولوں کو شاداب دیکھنے کے لیے

اسی لیے میں کسی اور کا نہ ہو جاؤں

مجھے وہ دے گیا اک خواب دیکھنے کے لیے

کسی نظر میں تو رہ جائے آخری منظر

کوئی تو ہو مجھے غرقاب دیکھنے کے لیے

عجیب سا ہے بہانا مگر تم آ جانا

ہمارے گاؤں کا سیلاب دیکھنے کے لیے

پڑوسیوں نے غلط رنگ دے دیا اظہر

وہ چھت پہ آیا تھا مہتاب دیکھنے کے لیے


اظہر عنایتی

No comments:

Post a Comment