Monday, 7 June 2021

ہمارے درمیاں اب سمندر ہوں یا وقت کی لمبی فصیلیں

 فاصلے بے معنی ہیں اب


ہمارے درمیاں اب سمندر ہوں

یا وقت کی لمبی فصیلیں

صدیاں بیت جائیں

چاہے قرنوں کی دوری ہو

فاصلے بے معنی ہیں اب

اداس جب بھی تم ہو گے

میری آنکھیں بھی نم ہوں گی

تم جو مسکراؤ گے

اداسیاں میری بھی کم ہوں گی

یونہی دور تک اکیلے چلتے جاؤ گے

تو میرے قدموں کی آہٹ ساتھ پاؤ گے

تمہاری ہر اک سرگوشی

ہوائیں مجھے سنائیں گی

میرے سارے سندیسے

بارشیں تمہیں بتائیں گی

چاندنی رات میں جب

محبت دل پہ صحیفے اتارے گی

میری ہر سانس تمہیں پکارے گی

کہ

فاصلے بے معنی ہیں اب

بہاریں جب پھول کھلانے کا

ہنر آزمائیں گی

اور بلبلیں گیت گائیں گی

تو تم بھی بانسری کو ہونٹوں سے لگا لینا

تمہاری سانسوں کا سر میں ہوں

بتا دینا


کنول بہزاد

No comments:

Post a Comment