فاصلے بے معنی ہیں اب
ہمارے درمیاں اب سمندر ہوں
یا وقت کی لمبی فصیلیں
صدیاں بیت جائیں
چاہے قرنوں کی دوری ہو
فاصلے بے معنی ہیں اب
اداس جب بھی تم ہو گے
میری آنکھیں بھی نم ہوں گی
تم جو مسکراؤ گے
اداسیاں میری بھی کم ہوں گی
یونہی دور تک اکیلے چلتے جاؤ گے
تو میرے قدموں کی آہٹ ساتھ پاؤ گے
تمہاری ہر اک سرگوشی
ہوائیں مجھے سنائیں گی
میرے سارے سندیسے
بارشیں تمہیں بتائیں گی
چاندنی رات میں جب
محبت دل پہ صحیفے اتارے گی
میری ہر سانس تمہیں پکارے گی
کہ
فاصلے بے معنی ہیں اب
بہاریں جب پھول کھلانے کا
ہنر آزمائیں گی
اور بلبلیں گیت گائیں گی
تو تم بھی بانسری کو ہونٹوں سے لگا لینا
تمہاری سانسوں کا سر میں ہوں
بتا دینا
کنول بہزاد
No comments:
Post a Comment