Tuesday, 8 June 2021

سمندر پر سکوں دل کی طغیانی نہیں کوئی

 سمندر پر سکوں دل کی طغیانی نہیں کوئی

ہوا پر شور ہے لیکن پریشانی نہیں کوئی

تعجب ہے تو بس اپنی وفاداری کے جذبے پر

ہمیں اس کے بدل جانے پہ حیرانی نہیں کوئی

تسلسل خواب خوش آثار کا یوں ٹوٹ جانے پر

تأسف ہے مگر اے دل! پشیمانی نہیں کوئی

ہم اپنے آپ ہی کے درپئے آزار رہتے ہیں

ہمارا ہم سے بڑھ کر دشمنِ جانی نہیں کوئی

ادھر آنے سے پہلے ہی ہمیں معلوم تھا نکہت

یہ وہ رستہ ہے جس رستے میں آسانی نہیں کوئی


نکہت بریلوی

No comments:

Post a Comment