Tuesday, 8 June 2021

دیواروں میں منہ لے کر رونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے

 درد کی کوئی زبان نہیں ہوتی


دیواروں میں منہ لے کر رونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے

درد کی کوئی زبان نہیں ہوتی

درد گونگی، بہری، اندھی دوشیزہ ہے

کاش، درد کو کوئی زبان مل جائے

درد کو زبان مل جائے تو دیواروں کے کان پھٹ جائیں

اسرافیل کا صُور بھی

اس کے شور میں دب جائے

وہ قیامت جو مجھ پر چپکے سے گزر جاتی ہے

حقیقت بن جائے

وہ درد جو روز میری پسلیوں میں

سرایت کر جاتا ہے

اس کے ارتعاش سے

کبھی کوئی آواز بن جائے

دعا کرو

یا تو درد تھم جائے

یا پھر آواز بن جائے


عین نقوی

No comments:

Post a Comment