درد کی کوئی زبان نہیں ہوتی
دیواروں میں منہ لے کر رونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے
درد کی کوئی زبان نہیں ہوتی
درد گونگی، بہری، اندھی دوشیزہ ہے
کاش، درد کو کوئی زبان مل جائے
درد کو زبان مل جائے تو دیواروں کے کان پھٹ جائیں
اسرافیل کا صُور بھی
اس کے شور میں دب جائے
وہ قیامت جو مجھ پر چپکے سے گزر جاتی ہے
حقیقت بن جائے
وہ درد جو روز میری پسلیوں میں
سرایت کر جاتا ہے
اس کے ارتعاش سے
کبھی کوئی آواز بن جائے
دعا کرو
یا تو درد تھم جائے
یا پھر آواز بن جائے
عین نقوی
No comments:
Post a Comment