جان لے ذات کو اکیلے میں
دن منا رات کو اکیلے میں
دیکھ اس زندگی کے میلے کو
سوچ اس بات کو اکیلے میں
آج دیکھا عجیب نظروں سے
اتفاقات کو اکیلے میں
رنگ دے ڈالا شادمانی کا
دل نے صدمات کو اکیلے میں
کھینچ اس دن کو محفلوں کے بیچ
جھیل اس رات کو اکیلے میں
آپ جیتے ہو سارا دن سب میں
اور ہم رات کو اکیلے میں
دیر تک اور دور تک سوچا
اس کی ہر بات کو اکیلے میں
عمران شمشاد
No comments:
Post a Comment