Tuesday, 8 June 2021

جان لے ذات کو اکیلے میں

 جان لے ذات کو اکیلے میں

دن منا رات کو اکیلے میں

دیکھ اس زندگی کے میلے کو

سوچ اس بات کو اکیلے میں

آج دیکھا عجیب نظروں سے

اتفاقات کو اکیلے میں

رنگ دے ڈالا شادمانی کا

دل نے صدمات کو اکیلے میں

کھینچ اس دن کو محفلوں کے بیچ

جھیل اس رات کو اکیلے میں

آپ جیتے ہو سارا دن سب میں

اور ہم رات کو اکیلے میں

دیر تک اور دور تک سوچا

اس کی ہر بات کو اکیلے میں


عمران شمشاد

No comments:

Post a Comment