اب اور کر نہ پاؤں گا میں پیار معذرت
پچھلی دفعہ ہوا ہوں بہت خوار معذرت
ہر بار توڑتا ہے تسلی سے میرا دل
پھر آ کے مجھ سے کرتا ہے ہر بار معذرت
جیسی عظیم و عمدہ ہے گفتار آپ کی
ویسا نہیں ہے آپ کا کردار معذرت
ہم جن کے آسرے پہ صلیبوں پہ چڑھ گئے
وہ لوگ کر رہے ہیں سرِ دار معذرت
تو چاہتا تھا تیری نگاہوں میں بس رہوں
میں بن گیا ہوں رونقِ بازار معذرت
اچھا تو آپ بھی یہاں بکنے کو آئے ہیں
میں نے سمجھ لیا تھا خریدار معذرت
مجھ سے نہ ہو سکیں گی یہ دربار داریاں
میں جا رہا ہوں چھوڑ کے دربار معذرت
میں نے نوید آپ سے جو بھی گِلہ کیا
بالکل غلط تھا اس لیے سرکار معذرت
نوید عباس
No comments:
Post a Comment