Tuesday, 8 June 2021

اب اور کر نہ پاؤں گا میں پیار معذرت

 اب اور کر نہ پاؤں گا میں پیار معذرت

پچھلی دفعہ ہوا ہوں بہت خوار معذرت

ہر بار توڑتا ہے تسلی سے میرا دل

پھر آ کے مجھ سے کرتا ہے ہر بار معذرت

جیسی عظیم و عمدہ ہے گفتار آپ کی

ویسا نہیں ہے آپ کا کردار معذرت

ہم جن کے آسرے پہ صلیبوں پہ چڑھ گئے

وہ لوگ کر رہے ہیں سرِ دار معذرت

تو چاہتا تھا تیری نگاہوں میں بس رہوں

میں بن گیا ہوں رونقِ بازار معذرت

اچھا تو آپ بھی یہاں بکنے کو آئے ہیں

میں نے سمجھ لیا تھا خریدار معذرت

مجھ سے نہ ہو سکیں گی یہ دربار داریاں

میں جا رہا ہوں چھوڑ کے دربار معذرت

میں نے نوید آپ سے جو بھی گِلہ کیا

بالکل غلط تھا اس لیے سرکار معذرت


نوید عباس

No comments:

Post a Comment