سورج
امید کی منزل
لہراتی راہیں
ٹھنڈی دھوپ
موج کھاتی ہوائیں
میرے چہرے میں دھنس رہی ہیں
سورج کی پگھلتی موم سے
کچھ بن رہا ہے
سورج کی آرزو کا شہر
کسی کو اس کی خبر نہیں
پر یہ خبر عام ہو گئی
اس کی چابی دریا میں
ایک کھائی کے اندر
ایک گرم طوفان میں گھوم رہی ہے
اس کو پانے کی ایک شرط تھی
صرف شام کے وقت وہاں تک پہنچا جا سکتا تھا
پر سورج نے ڈوبنے سے انکار کر دیا تھا
لوگوں میں بغاوت شروع ہو گئی
ڈیڑھ صدی بعد سورج ایک دن کے لیے
غروب ہونے کے لیے راضی ہو گیا
لوگ پھر سے بیدار ہوئے
ایک شام کی خاطر چند لوگ مار دئیے گئے
زمین ویران ہونے لگی
اور اس خطّے کی جانب سب بڑھنے لگے
دریا کے کنارے ایک شرط رکھی گئی
دریا کو پھونک مار کر ہٹانا تھا
یا اس کو پی کر ختم کرنا تھا
یا اس پہ آگ لگانی تھی
پھونک مارنے والے خلا میں دفن ہو گئے
اس کو پینے والے ہوا میں ڈوب کر مر گئے
اور آگ لگانے والے خود راکھ ہو گئے
پر ایک شخص پیٹھ کرے کھڑا تھا
اس کے لیے دریا خود ہٹ گیا
وہ کھائی میں گر کر بھی مرا نہیں تھا
چابی سے صرف ایک قدم دور تھا
اپنی ذات سے منسلک امید کو
اس گرم طوفان کے حوالے کرنا تھا
اس نے لاکھ امیدیں پیش کریں
مگر ناکام رہا
شام آخری کش لے رہی تھی
رات بھی بے تاب تھی
اور وہ سوچتا رہا
سوچتا گیا
لیکن کچھ سوچ نہ پایا
یوں شام پھر ڈھل گئی
اور رات کو قرار ملا
کرن رباب
No comments:
Post a Comment