Tuesday, 8 June 2021

امید کی منزل لہراتی راہیں ٹھنڈی دھوپ

سورج

امید کی منزل

لہراتی راہیں

ٹھنڈی دھوپ

موج کھاتی ہوائیں

میرے چہرے میں دھنس رہی ہیں

سورج کی پگھلتی موم سے

کچھ بن رہا ہے

سورج کی آرزو کا  شہر

کسی کو اس کی خبر نہیں

پر یہ خبر عام ہو گئی 

اس کی چابی دریا میں 

ایک کھائی کے اندر

ایک گرم طوفان میں گھوم رہی ہے

اس کو پانے کی ایک شرط تھی

صرف شام کے وقت وہاں تک پہنچا جا سکتا تھا

پر سورج نے ڈوبنے سے انکار کر دیا تھا

لوگوں میں بغاوت شروع  ہو گئی

ڈیڑھ صدی بعد سورج ایک دن کے لیے

غروب ہونے کے لیے راضی ہو گیا

لوگ پھر سے بیدار ہوئے

ایک شام کی خاطر چند لوگ مار دئیے گئے

زمین ویران ہونے لگی

اور اس خطّے کی جانب سب بڑھنے لگے

دریا کے کنارے ایک شرط رکھی گئی

دریا کو پھونک مار کر ہٹانا تھا

یا اس کو پی کر ختم کرنا تھا

یا اس پہ آگ لگانی تھی

پھونک مارنے والے خلا میں دفن ہو گئے

اس کو پینے والے ہوا میں ڈوب کر مر گئے

اور آگ لگانے والے خود راکھ ہو گئے

پر ایک شخص پیٹھ کرے کھڑا تھا

اس کے لیے دریا خود ہٹ گیا

وہ کھائی میں گر کر بھی مرا نہیں تھا

چابی سے صرف ایک قدم دور تھا

اپنی ذات سے منسلک امید کو

اس گرم طوفان کے حوالے کرنا تھا

اس نے لاکھ امیدیں پیش کریں

مگر ناکام رہا

شام آخری کش لے رہی تھی

رات بھی بے تاب تھی

اور وہ سوچتا رہا

سوچتا گیا

لیکن کچھ سوچ نہ پایا

یوں شام پھر ڈھل گئی

اور رات کو قرار ملا


کرن رباب

No comments:

Post a Comment