جس کو خواہش ہے صحرا میں سمندر دیکھے
اک نظر آ کے مِری آنکھ کے اندر دیکھے
جس کے رستے میں بچھا رکھی تھی ہم نے آنکھیں
اس کے ہاتھوں میں بھی الزام کے پتھر دیکھے
میں نے جب خود ہی ہتھیلی کو کھرچ ڈالا
پھر کوئی کیسے لکیروں میں مقدر دیکھے
آئینے تک میں کوئی عکس نہیں ہے ان کا
بند آنکھوں سے کئی بار جو منظر دیکھے
پاؤں پڑ کر بھی منا لیتی حیات اس کو میں
اس پہ لازم تھا کہ ایک بار پلٹ کر دیکھے
شفقت حیات شفق
No comments:
Post a Comment