Tuesday, 8 June 2021

آنکھوں میں ایک خواب سی صورت اتار کر

 آنکھوں میں ایک خواب سی صورت اُتار کر

کہتا ہے کوئی دشتِ تمنا کو پار کر

کل شام مجھ کو پگلی ہوا چُومتی رہی

خُوشبو مِرے وجود کے اندر اُتار کر

دل ہے کسی کی مستی میں دم بخود

اے عشقِ بے پناہ! اسے سنگسار کر

میں نے کہا کہ دید کو مدت گزر گئی

آئی صدائے شوق؛ ابھی انتظار کر

وہ کم سخن جو دل کی گرہیں کھولتا نہیں

خود پر نہ اس کی یاد کو اتنا سوار کر

کیوں رولتی ہے یاد کی تسبیح صبح و شام

اب کیا ملے گا روگ پرانے شمار کر

میں بُوند بُوند تِرے تصرّف میں آئی ہوں

اے رود بارِ عشق! مجھے آبشار کر

صغرا صدف یہ ہجر تِری جان لے گیا

اب شاعری میں دردِ ہُنر آشکار کر


صغرا صدف

صغریٰ صدف

No comments:

Post a Comment