Monday, 14 June 2021

یہ آنکھ نم تھی زباں پر مگر سوال نہ تھا

 یہ آنکھ نم تھی زباں پر مگر سوال نہ تھا

ہم اپنی ذات میں گم تھے کوئی خیال نہ تھا

سجا لیا ہے ہتھیلی پہ ہم نے اس کا نام

اس لیے تو بچھڑ جانے کا ملال نہ تھا

اگرچہ معتبر ٹھہرے تھے ہم زمانے میں

ہمارے پاس تو ایسا کوئی کمال نہ تھا

اسی کے ساتھ تھے ہم اس سے بے خبر رہ کر

اگرچہ رابطہ اس سے کوئی بحال نہ تھا 


طاہرہ جبین تارا

No comments:

Post a Comment