Monday, 14 June 2021

سنا ہے اس نے خزاں کو بہار کرنا ہے

 سنا ہے اس نے خزاں کو بہار کرنا ہے

یہ جھُوٹ تو ہے مگر اعتبار کرنا ہے

یہ اور بات ملاقات ہو نہ ہو لیکن

قیامتوں کا ہمیں انتظار کرنا ہے

محبتوں کو بھی اس نے خطا قرار دیا

مگر یہ جرم ہمیں بار بار کرنا ہے

ہر ایک بار یہ سوچا کہ اب کی بار اس نے

نہ جانے کون سا ڈھنگ اختیار کرنا ہے

تم اپنا چاند خوشی سے تمام شب دیکھو

ہمارا کام ستارے شمار کرنا ہے


اقبال کیفی

No comments:

Post a Comment