کاغذ پہ تیرا نقش اتارا نہیں گیا
مجھ سے کوئی خواب سنوارا نہیں گیا
مِل کے لگا کے آج زمانے ٹھہر گئے
تجھ سے بچھڑ کے وقت گزارا نہیں گیا
طوفان میں بھی ڈوب نہ پائی میری انا
ڈوبا مگر کسی کو پکارا نہیں گیا
خوشیوں کے قہقہے ہیں شہر میں گونجتے
لگتا ہے کوئی شہر میں مارا نہیں گیا
انسان وحشیوں کی طرح ہے کہ آج تک
مفہوم زندگی کا ابھارا نہیں گیا
آرائش جمال کسی کام کی نہیں
روئے عمال کو جب کہ نکھارا نہیں گیا
طاہرہ جبین تارا
No comments:
Post a Comment