ہیں یوں رقیب شہر میں رہزن کہاں نہیں
کوئی وفا شناس نہیں مہرباں نہیں
مجھ کو امیرِ شہر کے محلوں سے غرض کیا
یا رب مِرے نصیب میں ٹوٹا مکاں نہیں
قسمت شکستہ اور سیہ فرشِ آرزو
نکلا نہ مہتاب کبھی کہکشاں نہیں
سہتے رہی عذاب جدائی کا فاختہ
در قید پھول پات نہیں باغباں نہیں
جن کو بہت غرور تھا مال و منال پر
دنیا میں آج ان کا کچھ نام و نشاں نہیں
عارف بتاؤ حال سنائیں کسے یہاں
اس بھیڑ میں ہمارا کوئی ہمزباں نہیں
جاوید عارف
No comments:
Post a Comment