Sunday, 13 June 2021

اک خدا نے گلے لگایا تھا

 اک زمانہ گزر گیا ہے مجھے

اک خدا نے گلے لگایا تھا

جو مِرے ساتھ چلا آیا تھا

تیری آواز کا ہی سایا تھا

میں نے آواز دوبارہ دی ہے

شاید اک بار سن نہ پایا تھا

تیری پیشانی کے ستارے کو

دل مِرا چومنے کو آیا تھا

ایک زنجیر کھولنی ہو گی

ایک پاؤں اگر اٹھایا تھا

ایک خوشبو مجھے بلاتی ہے

اک تمنا نے سر اٹھایا تھا

اب تِری ہارنے کی باری ہے

جیت کا شوق جو چرایا تھا

بے سبب تلخیاں نہیں ہوتیں

زہر برسوں مجھے پلایا تھا


ثانیہ شیخ

No comments:

Post a Comment