ہوا میں نوحے گھُلے درد مشعلوں میں رہا
بہت عجیب سا دُکھ تھا کہ بستیوں میں رہا
تمام پیڑ تھے ساحل پہ آگ کی زد میں
مِرے قبیلے کا ہر فرد پانیوں میں رہا
یہ جانتے بھی کہ سارا سفر خلا کا ہے
بلا کا حوصلہ ٹُوٹے ہوئے پروں میں رہا
بھری بہار ہرے خواب کے گُلاب لیے
تمام عمر میں اُجڑی ہوئی رُتوں میں رہا
قریب آئے تو سُورج بھی بُجھ گئے قیوم
سیاہ برف کی صورت لہو رگوں میں رہا
قیوم طاہر
No comments:
Post a Comment