Sunday, 13 June 2021

ہو جو اپنی ہی طلبگار کہیں میں تو نہیں

 ہو جو اپنی ہی طلبگار کہیں میں تو نہیں

کوئی تو ہے پس دیوار کہیں میں تو نہیں

یہ جو تو خواب ادھورے سے لیے پھرتا ہے

ان کی تعبیر دگر بار کہیں میں تو نہیں

تیرے دل میں جو خلش ہوتی ہے اس کا کے باعث

میں نہیں تھی مگر اس بار کہیں میں تو نہیں

میرے جانے پہ عجب تیری یہ حالت کیوں ہے

تیرے اشکوں کی وجہ یار کہیں میں تو نہیں

آج اس شہر میں تو کس کا پتہ کھوجتا ہے

کھویا جو تیرا شہر یار کہیں میں تو نہیں


شاہانہ ناز

No comments:

Post a Comment