ہو جو اپنی ہی طلبگار کہیں میں تو نہیں
کوئی تو ہے پس دیوار کہیں میں تو نہیں
یہ جو تو خواب ادھورے سے لیے پھرتا ہے
ان کی تعبیر دگر بار کہیں میں تو نہیں
تیرے دل میں جو خلش ہوتی ہے اس کا کے باعث
میں نہیں تھی مگر اس بار کہیں میں تو نہیں
میرے جانے پہ عجب تیری یہ حالت کیوں ہے
تیرے اشکوں کی وجہ یار کہیں میں تو نہیں
آج اس شہر میں تو کس کا پتہ کھوجتا ہے
کھویا جو تیرا شہر یار کہیں میں تو نہیں
شاہانہ ناز
No comments:
Post a Comment