Saturday, 14 August 2021

دل میں اب تک ہے کہیں، تیرے آنے کا گماں

 دل میں اب تک ہے کہیں، تیرے آنے کا گماں

تجھ کو کھونے کی کسک تجھ کو پانے کا گماں

چاند تکتا ہی رہا،۔ اور وہ روتی ہی رہی

اس کو تکیے پہ رہا میرے شانے کا گماں

اس دوراہے سے بھلا کس طرف جائیں بتا

یاد رکھنے کی قسم، بھول جانے کا گماں

اتنا بے آس کِیا ان بہاروں نے ہمیں

ہم نے پت جھڑ سے رکھا، گُل کِھلانے کا گماں

درد سہنا ہے وحید، اس کو لکھا نہ کرو

کون پڑھتا ہے بھلا، اک دِوانے کا گماں


وحید اختر

No comments:

Post a Comment