کیسے دشمن لمحے ہم دونوں میں حائل تھے
اس کے اور مسائل میرے اور مسائل تھے
میں کیسے ڈر جاتا ان عیار حریفوں سے
تیر چلانے سے پہلے جو خود ہی گھائل تھے
آج تمہیں پھولوں کی ضد ہے ورنہ کل تک تم
انگارہ سی راہوں پر چلنے پر مائل تھے
آج تمہیں وعدوں قسموں کا کچھ احساس نہیں
تم تو حد سے زیادہ ان باتوں کے قائل تھے
ان وقتوں کی یادیں خون رلاتی ہیں جعفر
جب سوچیں آوارہ تھیں اور عہد اوائل تھے
جعفر شیرازی
No comments:
Post a Comment