Monday, 11 January 2021

کیسے دشمن لمحے ہم دونوں میں حائل تھے

 کیسے دشمن لمحے ہم دونوں میں حائل تھے

اس کے اور مسائل میرے اور مسائل تھے

میں کیسے ڈر جاتا ان عیار حریفوں سے

تیر چلانے سے پہلے جو خود ہی گھائل تھے

آج تمہیں پھولوں کی ضد ہے ورنہ کل تک تم

انگارہ سی راہوں پر چلنے پر مائل تھے

آج تمہیں وعدوں قسموں کا کچھ احساس نہیں

تم تو حد سے زیادہ ان باتوں کے قائل تھے

ان وقتوں کی یادیں خون رلاتی ہیں جعفر

جب سوچیں آوارہ تھیں اور عہد اوائل تھے


جعفر شیرازی

No comments:

Post a Comment