خوش ہو لیا کر
ارے ناداں! خوش ہو لیا کر
پڑوس میں کسی بچے کی قلقاری پر
دیوار کے پیچھے کسی لڑکی کی شوخ ہنسی پر
سبزی والے کے ہوکے پر
یا ٹین ڈبے ردی بیچتے کی لَے پر
سب اپنے اپنے نغمات لیے
تِرے در سے گزرتے ہیں
اپنا اپنا بوجھا اور مشقت لے کر
بنا کوئی شکوہ و شکایت کئے
اور تُو کہ آسائشات کی اس نگری میں
جیسے خوش رہنا کسی سے سیکھا ہی نہیں
پاگل مجذوب مِرے وحشت سے بھرے دل
سُدھر جا
سُدھر جا، مِری خاطر
عذرا مغل
No comments:
Post a Comment