Sunday, 10 January 2021

زندگی اور موت کا یوں رابطہ رہ جائے گا

 زندگی اور موت کا یوں رابطہ رہ جائے گا

مقتلوں کو جانے والا راستہ رہ جائے گا

خشک ہو جائیں گی آنکھیں اور چھٹ جائے گا ابر

زخمِ دل ویسے کا ویسا اور ہرا رہ جائے گا

بجھ چکی ہوں گی تمہارے گھر کی ساری مشعلیں

اور تُو لوگوں میں شمعیں بانٹتا رہ جائے گا

مجھ سے لے جائے گا اک اک چیز وہ جاتے ہوئے

لیکن اس کا نام آنکھوں میں لکھا رہ جائے گا

یادگارِ عشق ایسی چھوڑ جاؤں گا سروش

حسن حیرانی سے مجھ کو دیکھتا رہ جائے گا


شکیل سروش

No comments:

Post a Comment