Sunday, 10 January 2021

ہنگامے سے وحشت ہوتی ہے تنہائی میں جی گھبرائے ہے

 ہنگامے سے وحشت ہوتی ہے تنہائی میں جی گھبرائے ہے

کیا جانئے کیا کچھ ہوتا ہے جب یاد کسی کی آئے ہے

جن کوچوں میں سُکھ چین گیا جن گلیوں میں بدنام ہوئے

دیوانہ دل ان گلیوں میں رہ رہ کر ٹھوکر کھائے ہے

ساون کی اندھیری راتوں میں کس شوخ کی یادوں کا آنچل

بجلی کی طرح لہرائے ہے بادل کی طرح اُڑ جائے ہے

یادوں کے درپن ٹوٹ گئے نظروں میں کوئی صورت ہی نہیں

لیکن بے چہرہ ماضی سایہ سایہ لہرائے ہے

کچھ دنیا بھی بیزار ہے اب ہم جیسے وحشت والوں سے

کچھ اپنا دل بھی دنیا کی اس محفل میں گھبرائے ہے

کلیوں کی قبائیں چاک ہوئیں پھولوں کے چہرے زخمی ہیں

اب کے یہ بہاروں کا موسم کیا رنگ نیا دکھلائے ہے

دیوار نہ در، سنسان کھنڈر، ایسا اُجڑا یہ دل کا نگر

تنہائی کے ویرانے میں آواز بھی ٹھوکر کھائے ہے

یہ میرا کوئی دم ساز نہ ہو رفعت یہ کوئی ہم راز نہ ہو

جو میرے گیت مری غزلیں میری ہی دُھن میں گائے ہے


رفعت سروش

No comments:

Post a Comment