راستے جو بھی چمک دار نظر آتے ہیں
سب تیری اوڑھنی کے تار نظر آتے ہیں
کوئی پاگل ہی محبت سے نوازے گا مجھے
آپ تو خیر سمجھدار نظر آتے ہیں
میں کہاں جاؤں کروں کس سے شکایت اس کی
ہر طرف اس کے طرفدار نظر آتے ہیں
زخم بھرنے لگے ہیں پچھلی ملاقاتوں کے
پھر ملاقات کے آثار نظر آتے ہیں
ایک ہی بار نظر پڑتی ہے ان پر تابش
اور پھر وہ ہی لگا تار نظر آتے ہیں
زبیر تابش
No comments:
Post a Comment