Sunday, 10 January 2021

راستے جو بھی چمک دار نظر آتے ہیں

 راستے جو بھی چمک دار نظر آتے ہیں 

سب تیری اوڑھنی کے تار نظر آتے ہیں 

کوئی پاگل ہی محبت سے نوازے گا مجھے 

آپ تو خیر سمجھدار نظر آتے ہیں 

میں کہاں جاؤں کروں کس سے شکایت اس کی 

ہر طرف اس کے طرفدار نظر آتے ہیں

زخم بھرنے لگے ہیں پچھلی ملاقاتوں کے 

پھر ملاقات کے آثار نظر آتے ہیں 

ایک ہی بار نظر پڑتی ہے ان پر تابش

اور پھر وہ ہی لگا تار نظر آتے ہیں


زبیر تابش

No comments:

Post a Comment