موسموں کے ہاتھ خالی طشتری رہ جائے گی
شاخ پر اک کوک ہی لٹکی ہوئی رہ جائے گی
تیرے سینے میں رہے گا ایک انگارے کا خس
میری آنکھوں میں ہمیشہ کی نمی رہ جائے گی
پھر اسی بے چہرگی کا گل کھلے گا ہر طرف
پھر وہی دیوار کی بے قامتی رہ جائے گی
پھر نہ ہو گا بے سبب باتوں میں وہ لہجے کا رس
مجھ تک آنے سے تِری آواز بھی رہ جائے گی
وقت مجھ کو دیکھنا ہوگا تِرے آنے کا، اور
عادتوں کا کیا، گھڑی کمرے میں ہی رہ جائے گی
رضوان فاخر
No comments:
Post a Comment