Sunday, 10 January 2021

موسموں کے ہاتھ خالی طشتری رہ جائے گی

 موسموں کے ہاتھ خالی طشتری رہ جائے گی

شاخ پر اک کوک ہی لٹکی ہوئی رہ جائے گی 

تیرے سینے میں رہے گا ایک انگارے کا خس

میری آنکھوں میں ہمیشہ کی نمی رہ جائے گی

پھر اسی بے چہرگی کا گل کھلے گا ہر طرف

پھر وہی دیوار کی بے قامتی رہ جائے گی

پھر نہ ہو گا بے سبب باتوں میں وہ لہجے کا رس

مجھ تک آنے سے تِری آواز بھی رہ جائے گی

وقت مجھ کو دیکھنا ہوگا تِرے آنے کا، اور

عادتوں کا کیا، گھڑی کمرے میں ہی رہ جائے گی


رضوان فاخر

No comments:

Post a Comment